راکھ میں دبی چنگاری
لائبہ محبوب
(ریسرچ اسکالر،شعبۂ اردو، رامپور)
ادب محض الفاظ کو ترتیب دینے کا نام نہیں، بلکہ اپنے عہد، اپنے معاشرے اور اپنے آس پاس موجود انسانی زندگی کو محسوس کرنے کا ایک وسیلہ بھی ہے۔ بعض تحریریں ہمیں کسی واقعے سے آگاہ کرتی ہیں، جبکہ بعض ہمیں اسی واقعے کے اندر چھپے ہوئے انسانی دکھ، سوالات اور احساسات تک پہنچاتی ہیں۔
نسرین حمزہ علی صاحبہ کی کتاب ’’راکھ میں دبی چنگاری‘‘ بھی ایسی ہی تحریروں کا مجموعہ ہے، جس میں معاشرتی زندگی کے مختلف پہلو ؤں، خصوصاً عورت کے مسائل، رشتوں کی پیچیدگیوں، انسانی احساسات اور سماجی رویوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کے حوالے سے خسر و فاؤنڈیشن کی کاوش بھی قابل ذکر ہے۔
ہندوستان جیسے کثیر المذہبی، کثیر السانی اور کثیر الثقافتی ملک میں ایسے ادب کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو انسان کو انسان سے قریب کرے، باہمی احترام اور رواداری کو فروغ دے اور معاشرتی ہم آہنگی کے احساس کو مضبوط کرے۔ خسرو فاؤنڈیشن اردو، ہندی اور انگریزی سمیت مختلف زبانوں میں ایسے ادب کی اشاعت کے ذریعے ان اقدار کو فروغ دینے کی کوشش کرتی ہے جو نئی نسل میں مثبت سوچ کے ساتھ ذمہ داری کا احساس بھی پیدا کرے۔
نسرین حمزہ علی صاحبہ کی کتاب ’’راکھ میں دبی چنگاری بھی اسی ادبی و سماجی فکر کی ایک نمائندہ کاوش ہے۔ نسرین حمزہ علی صاحبہ ہندوستانی ادیبہ شاعرہ اور مصنفہ ہیں۔ ان کا تعلق حیدر آباد سے ہے اور وہ بیدر میں تدریسی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کے دو شعری مجموعے ’’اک لمحہ‘‘ اور ’’دھوپ کا نم‘‘ منظر عام پر آچکے ہیں۔ ان کی تحریروں میں عورت کے مسائل، رشتوں کی پیچیدگیاں، تہذیب واقدار کے زوال کا احساس اور معاشرتی رویوں کے مختلف پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔ ان کی تحریروں کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کے معاشرے کو محض دیکھتی ہی نہیں بلکہ اسے محسوس بھی کرتی ہیں۔ یہی احساس ان کی تحریروں میں منتقل ہو کر قاری کو اپنے تجربات اور اپنے معاشرے کی طرف دوبارہ دیکھنے پر آمادہ کرتا ہے۔ بعض مقامات پر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مصنفہ نے کسی خارجی واقعے کو بیان کرنے کے بجائے انسانی دل کے اندر چھپی ہوئی کسی آواز کو لفظوں میں ڈھال دیا ہو۔
زیر نظر کتاب کا عنوان ’’راکھ میں دبی چنگاری‘‘ اپنے اندر پوری کتاب کے فکری مزاج کی ایک علامت سمیٹے ہوئے ہے۔راکھ بظاہر کسی ایسی چیز کی علامت ہے جو جل کر بجھ چکی ہو، لیکن اگر اسی راکھ میں کوئی چنگاری باقی رہ جائے تو اس کا مطلب ہے کہ زندگی، حرارت اور روشنی کے امکانات ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئے۔
اس اعتبار سے ’’راکھ کو معاشرتی مسائل، محرومیوں، رشتوں کے ٹوٹنے اور دبے ہوئے خوابوں کی علامت سمجھا جا سکتا ہے، جبکہ چنگاری‘‘ ان امکانات کی علامت ہے جو مشکل حالات کے باوجود باقی رہتے ہیں۔اس خیال کو ساقی فاروقی صاحب کے شعر میں بھی ایک مختلف معنویت کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے:
یہ آگ ساتھ نہ ہوتی تو راکھ ہو جاتے
عجیب رنگ ترے نام سے ہنر میں رہا
نسرین حمزہ علی صاحبہ کی تحریروں سے گزرتے ہوئے بار بار یہی احساس ہوتا ہے کہ مصنفہ معاشرے کے ایسے مسائل کو موضوع بناتی ہیں جو ہمارے سامنے موجود تو ہیں، لیکن ہم اکثر ان کی گہرائی میں جانے سے گریز کرتے ہیں۔
کتاب میں عورت ایک نمایاں موضوع کے طور پر سامنے آتی ہے، لیکن اسے صرف مظلوم کردار بنا کر ہی پیش نہیں کیا گیا ہے۔ کہیں عورت اپنے رشتوں اور ذمہ داریوں کے درمیان زندگی گزار رہی ہے تو کہیں اپنی شناخت تلاش کر رہی ہے۔ کہیں سماجی رویوں سے سوال کرتی ہے اور کہیں اپنے اندر موجود قوت کو پہچاننے کی کوشش کرتی ہے۔ مثلاً اس کتاب میں شامل ’اک سوال‘ کی زینب اس سلسلے میں ایک اہم کردار ہے۔ بظاہر وہ ایک ازدواجی زندگی گزار رہی ہے، لیکن اندر سے تنہائی کا شکار ہے۔ اس کے ذریعے مصنفہ ایک سادہ مگر گہر ا سوال سامنے رکھتی ہیں کہ کیا صرف ایک ساتھ رہنا ہی رفاقت کہلاتا ہے؟
مصنفہ اس سوال کا کوئی بڑا فلسفیانہ جواب نہیں دیتیں، بلکہ اسے قاری پر چھوڑ دیتی ہیں۔ یہی اس کہانی کی خوبی ہے کہ سوال کہانی کے اختتام پر ختم نہیں ہوتا، بلکہ قاری کے ذہن میں آگے سفر کرتارہتا ہے اور اسے اپنے ارد گرد کے رشتوں کو ایک نئی نظر سے دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔
اسی طرح ’’راکھ میں دبی چنگاری میں طلاق کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔ یہاں توجہ صرف میاں بیوی کے اختلاف تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات بچوں کی نفسیات، ان کے خوابوں اور دوسرے رشتوں تک پھیلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس طرح ایک ازدواجی تنازع محض دو افراد کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے خاندان کی زندگی کو متاثر کرنے والے مسئلے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
’ بیوہ کی چادر ‘ کی سمیرا بھی ایک ایسا کردار ہے جو قاری کے ذہن میں دیر تک موجود رہتا ہے۔ شوہر کے انتقال کے بعد دو بچوں کی ذمہ داری اور پوری زندگی کا سوال اس کے سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ وہ خود کو سنبھالتی ہے، کام کرتی ہے اور بچوں کی پرورش کرتی ہے، لیکن جب اپنی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے کا مرحلہ آتا ہے تو معاشرتی رویے اس کے راستے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ اس کردار کے ذریعے مصنفہ اس بنیادی سماجی رویے کی طرف توجہ دلاتی ہیں کہ بیوہ یا مطلقہ ہو نا کسی عورت کی زندگی کے اختتام کا نام نہیں ہونا چاہیے۔
’ طوفانوں میں چراغ جلتے ہیں ‘ کی راحیلہ کے ذریعے عورت کی زندگی کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے۔ وہ ایک عام گھر یلو عورت ہے، جس کی زندگی گھر، شوہر، ساس، بچوں اور روزمرہ کی ذمہ داریوں میں گھری ہوئی ہے، لیکن اس کے اندر پڑھنے اور لکھنے کی خواہش بھی موجود ہے۔ ایک موقع پر اس کے اندر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’کیا میری زندگی کا نصب العین یہی تھا؟‘
یہ سوال اسے اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتا ہے۔ یوں زندگی کی مشکلات صرف اسے توڑنے کا سبب نہیں بنتیں بلکہ اسے اپنی ذات، اپنی خواہشات اور اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔ کتاب میں ’’بہادر تم‘‘، ’’عورت کی کہانی‘‘ اور ’’اسلام اور عورت‘‘ جیسی تحریروں میں بھی عورت کی قربانی، تعلیم، صلاحیت، سماجی کردار اور اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے جیسے پہلو سامنے آتے ہیں۔ عورت کے اس تصور کو کیفی اعظمی صاحب کی نظم بعنوان ’عورت‘ کی روشنی میں بھی بے حد خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے کہ:
قدر اب تک تری تاریخ نے جانی ہی نہیں
تجھ میں شعلے بھی ہیں بس اشک فشانی ہی نہیں
تو حقیقت بھی ہے دلچسپ کہانی ہی نہیں
تیری ہستی بھی ہے اک چیز جوانی ہی نہیں
اپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھے
اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
ان اشعار کی معنویت یہ ہے کہ عورت کو صرف دکھ، قربانی اور آنسو کی علامت سمجھنا اس کے مکمل وجود کو تسلیم نہ کرنا ہے۔ اس کے اندر قوت، صلاحیت، شعور اور اپنے مستقبل کی تشکیل کے امکانات بھی موجود ہیں۔ ’’راکھ میں دبی چنگاری‘ ‘کی متعدد تحریروں میں عورت اسی وسیع تر تناظر میں سامنے آتی ہے۔
اگر چہ کتاب میں عورت کے مسائل نمایاں ہیں، لیکن اس کا دائرہ فکر صرف نسوانی مسائل تک محدود نہیں۔ ’’بہتر سماج کی تعمیر‘‘ جیسی تحریر میں مصنفہ فرد سے آگے بڑھ کر پورے معاشرے کی بات کرتی ہیں۔ ان کے نزدیک بہتر سماج محض نصیحتوں سے وجود میں نہیں آتا بلکہ تعلیم، اجتماعی شعور، ذمہ داری، قانون کی پاسداری اور اجتماعی کردار اس کی بنیادی ضرورت ہیں۔ یہ خیال اقبال کے معروف شعر سے بھی ہم آہنگ محسوس ہوتا ہے:
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
اس اعتبار سے کتاب کا فکری دائرہ فرد کے ذاتی دکھ سے شروع ہو کر اجتماعی زندگی تک پھیل جاتا ہے۔ مصنفہ اپنے کرداروں کے ذریعے یہ احساس پیدا کرتی ہیں کہ معاشرے کی خرابیوں کو صرف بیان کرنا کافی نہیں، بلکہ ان کے اسباب کو سمجھنا اور ان کی اصلاح کے لیے سوچ پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔
کتاب کی مصنفہ نسرین حمزہ علی صاحبہ کے اسلوب میں جذباتیت نمایاں ہے، لیکن یہ جذباتیت محض جذبات ابھار نے تک محدود نہیں رہتی۔ وہ اپنے کرداروں کے دکھ کو محسوس کرتی ہیں اور اسی احساس کو اپنی نثر میں منتقل کرتی ہیں۔ ان کی تحریروں میں طوفان، چراغ، راکھ، چنگاری، بہار اور خزاں جیسے الفاظ اور استعارے ان کی نثر کو ایک مخصوص رنگ عطا کرتی ہیں۔
آج کے عہد میں پڑھنے کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ ہیں، لیکن مسلسل اور سنجیدہ مطالعے کی عادت کم ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیوز اور چند سطروں کی تحریروں کے مقابلے میں کسی کردار کے ساتھ کئی صفحات کا سفر کرنے کے لیے جس توجہ اور صبر کی ضرورت ہے، وہ آہستہ آہستہ کم ہوتا جارہا ہے۔ اچھا ادب اسی صبر کو دوبارہ پیدا کرتا ہے۔
زینب کے ساتھ چلتے ہوئے قاری صرف زینب کی زندگی نہیں پڑھتا بلکہ اپنے معاشرے میں موجود بہت سی زینبوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ سمیرا کی کہانی اسے اپنے ارد گرد موجود ان عورتوں کی طرف متوجہ کر سکتی ہے جن کے دکھ شاید اس کی نظروں سے اوجھل رہے ہوں۔ راحیلہ کے ساتھ سفر کرتے ہوئے شاید اسے اپنے اندر کا وہ خواب یاد آجائے جسے اس نے کسی مجبوری کے باعث ادھورا چھوڑ دیا تھا۔
یہی ادب کی طاقت ہے کہ وہ کسی دوسرے انسان کی زندگی کو اتنی دیر کے لیے ہماری نگاہ کے سامنے لے آتا ہے کہ اس کا دکھ، اس کا سوال اور اس کی امید ہمیں اپنی محسوس ہونے لگتی ہے۔
خسر وفاؤنڈیشن کی جانب سے ایسی کتاب کی اشاعت اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ ادب کو صرف تفریح یا اظہار ذات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے سماجی شعور اور فکری بیداری کا وسیلہ بنایا جائے۔ قدیم ادبی خزانوں کی نئی ترتیب و اشاعت اور تراجم کے ساتھ ساتھ نئے قلم کاروں کو سامنے لانا اور ان کی تحریروں کو قارئین تک پہنچانا خسرو فاونڈیشن کی ان کاوشوں میں شامل ہے جو ادبی منظر نامے میں نئی آوازوں کے لیے راستہ ہموار کرتی ہیں۔
اچھا ادب اپنے قاری کو محض کسی واقعے سے واقف نہیں کر اتا، بلکہ اسے اپنے ارد گرد کی زندگی کو ایک نئی نظر سے دیکھنے کا موقع بھی دیتا ہے۔ محترمہ نسرین حمزہ علی کی تحریروں کی ایک نمایاں خوبی یہی ہے کہ ان کے کردار اپنے دکھ، سوالات، محرومیوں اور خوابوں کے ساتھ قاری کے سامنے آتے ہیں اور اسے اپنے معاشرے میں موجود ایسے ہی کرداروں اور مسائل پر غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
.........................
کتاب نام: راکھ میں دبی چنگاری
مصنفہ: نسرین حمزہ علی
ناشر: خسرو فاونڈیشن، ڈی