Blog Detail –

معروف مصنف و صحافی غوث سیوانی کی نئی کتاب پر تبصرہ ملاحظہ فرمائیں ....بشکریہ روزنامہ ملاپ
ہم آہنگی کا پیغام :روحانیت کی دو راہیں:تصوف اور یوگ
مبصر:شاہ عمران حسن
(نئی دہلی)
نام کتاب: روحانیت کی دو راہیں،تصوف اور یوگ
مصنف: غوث سیوانی
صفحات: 156
ناشر: خسرو فائونڈیشن، ڈی319، ڈیفینس کالونی، نئی دہلی
سن اشاعت: 2026
ایسے ماحول میں جب ہر طرف نفرت کادور دورہ ہے،ایک ایسی کتاب منظرعام پر آئی ہے جو محبت اور بھائی چارہ کی بات کر تی ہے۔ جی ہاں!غوث سیوانی کی تصنیف "روحانیت کی دوراہیں: تصوف اور یوگ"کئی لحاظ سے قابل مطالعہ ہے۔ صاحب ذوق لوگوں کے لئے کتاب میں بہت کچھ ہے۔ قاری پڑھتا جاتا ہے اور تاریخِ روحانیت کی پرتیں کھلتی جاتی ہیں۔ یہ حقیقت کم ہی لوگوں جانتے ہوں گے کہ تصوف اور یوگ کے درمیان بھی کچھ قدر مشترک ہے اور صوفیہ کرام نے بھی یوگ کے فروغ واشاعت میں اہم کردار نبھایا ہے۔ کتاب دوہزار سال کی روحانیت کی تاریخ کے بعض اہم پہلووں کو اجاگر کرتی ہے۔
یوگ اور تصوف دونوں ہی قدیم روحانی طرز حیات ہیں۔ جہاں یوگ کی تاریخ دوہزار سال سے زیادہ پرانی ہے،وہیں دوسری طرف اسلام کی تاریخ جس قدرپرانی ہے، تصوف کا اتہاس بھی اسی قدر قدیم ہے۔زیرتبصرہ کتاب دونوں کی تاریخ پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ ان کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے نیز دونوں کے مختلف جغرافیائی پس منظر کے باجود ان کے درمیان حیرت انگیز مماثلتیں بھی تلاش کرتی ہے۔ تصوف اور یوگ کے موضوع پر یوں تو الگ الگ بہت کچھ لکھا گیا ہے مگر یہ کتاب جس زاویہ نظر سے ان موضوعات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتی ہے، اس انداز میں ماضی میں نہیں پیش کیا گیا۔
ادیب،شاعر،اسکرپٹ رائٹر اورصحافی غوث سیوانی بیس سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں جن میں لگ بھگ نصف درجن کتابیں تصوف کے موضوع پر ہیں۔ انوارِ تصوف، جدید دنیا کے مسائل اور تصوف، تصوف اور کشمیری صوفیہ،صوفیہ کی سائنسی بصیرت بے حداہم اور قابل مطالعہ ہیں۔اب ’روحانیت کی دو راہیں:تصوف اور یوگ‘منظر عام پر آئی ہے جو اپنے موضوع کے لحاظ سے منفردہے۔ کتاب عام فہم زبان میں اہم روحانی ،تاریخی اور علمی موضوعات پربحث کرتی ہے۔ مصنف کا اندازِ تحریر رواں ہے، مشکل باتوں کو بھی آسان انداز میں پیش کرتے ہیں۔
زیر نظر کتاب میں جو عنوان ہیں،وہ کچھ اس طرح ہیں یوگ اور تصوف کا تعارف ،تصوف اور یوگ میں یکسانیت، تصوف اور یوگ کی عالمی مقبولیت،اصل تعلیمات اور تجارتی تصوف ویوگا، البیرونی اور تصوف و یوگ کا موازنہ، یوگ پر پہلی فارسی کتاب بحرالحیات،شہزادہ داراشکوہ اور تصوف ویوگ، سوامی وویکانند اور راج یوگ، مراقبہ کے سائنٹفک پہلو،تصوف میں نفس اور یوگ میں اہنکار ، مرشد و مرید اور گرو ششیہ روایت ، سماع بمقابلہ بھجن کیرتن اور بین المذاہب مکالمہ وغیرہ۔ ان تمام عنوانات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ کتاب نہیں بلکہ دریا کو کوزہ میں سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کتاب کے تعارف میں خسرو فاؤنڈیشن کے کنوینر ڈاکٹر حفیظ الرحمن لکھتے ہیں کہ ’یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد اور پہلی کتاب ہے۔(ص:8)‘جیسے جیسے قاری مطالعہ کرتا جاتا ہے ڈاکٹرحفیظ الرحمن کی باتوں کی صداقت واضح ہوتی جاتی ہے۔
صاحب کتاب نے ابتدائیہ میں لکھا ہے کہ آج کا انسان ذہنی دباؤ، اخلاقی زوال اور روحانی خلا کا شکار ہے۔ تصوف اور یوگ دونوں ایسے نظام پیش کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں جو سکون قلب عطا کرنے والے ہیں اور انسان کو مادیت سے نکال کر حقیقت کی طرف لے جاتے ہیں۔(ص:10)
وہ مزید لکھتے ہیں کہ’ تصوف اور یوگ ؛دونوں کا کاروباری اورسیاسی استعمال ہو رہا ہے۔ ’روحانیت کی دو راہیں:تصوف اور یوگ‘حقیقت کو سمجھنے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش ہے۔(ص:10)
مصنف اہل خانقاہ سے شکوہ کرتے ہیں کہ وہ ایک لمبی مدت سے تصوف پر تلاش و تحقیق کا کام کررہے ہیں مگر اب تک کسی ادارے یا خانقاہ کی جانب سے دست تعاون نہیں بڑھایا گیا ایسے میں خسرو فاؤنڈیشن نے کتاب کو شائع اور ڈسٹری بیوٹ کرکے اہم خدمت انجام دی ہے۔
مصنف کا کہنا ہے کہ’ آج کا انسان مذہب رکھتا ہے؛ مگر وہ روحانیت سے خالی ہے (ص:28)
کتاب بتاتی ہے کہ اکابر صوفیائے کرام کا ماننا ہے کہ روحانی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب انسان دنیا کی ظاہری آرائشوں سے نکل کر باطن کی طرف متوجہ ہوجائے۔
غوث سیوانی کی زیر نظر کتاب میں ابو ریحان البیرونی کی’ کتاب الہند‘ کاتفصیلی حوالہ ہے جس میں یوگ اور تصوف کا موازنہ موجود ہے ۔ اسی طرح وہ بتاتے ہیں کہ فارسی زبان میں یوگ پر لکھی جانے والی پہلی کتاب ’بحرالحیات‘ ہے جسے شطاریہ سلسلہ کے بزرگ شیخ محمد غوث گوالیاری نے تحریر کیاتھا۔ اس کا پہلے عربی اور پھر دنیا کی متعددزبانوں میں ترجمہ ہوااور اس کے ذریعہ یوگ کا دنیا سے تعارف ہوا۔
وہیں شہزادہ داراہ شکوہ اور یوگ پر بھی کتاب میں ایک طویل مقالہ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ داراشکوہ خود یوگیوں سے مکالمہ کرتے تھے اور یوگ پر کتابوں کا ترجمہ بھی کرایا ہے۔ کتاب بتاتی ہے کہ شہزادہ داراشکوہ کا یوگیوں اور خاص طور پر بابالال بیراگی سے میل جول محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ برصغیر میں بین المذاہب ہم آہنگی ، فکری وسعت اور باطنی حقائق کی مشترک تلاش کی ایک روشن مثال ہے۔
بہرحال یہ ایک قابل مطالعہ کتاب ہے جو بتاتی ہے کہ روحانیت ایک ابدی حقیقت ہے اور ہمیشہ سے انسان کو اس کی ضرورت رہی ہے، تصوف اور یوگ فلسفیانہ جواب دینے کے بجائے راہِ عمل کی طرف انسان کو راغب کرتے ہیں جس پر گامزن ہوکر انسان منزل تک پہنچ جاتا ہے۔
کتاب کی طباعت معیاری ہے، پروف کی غلطیاں نہیں کے برابر ہیں، نیز سرورق بھی بامعنی ہے جو تصوف اور یوگ کی علامت کو ظاہر کرتا ہے جس کا تمام کریڈٹ ادارہ خسر وفاؤنڈیشن کو جاتا ہے ۔ خیال رہے کہ خسر وفاؤنڈیشن ہندوستان کا ایک ایسا ادارہ ہے، جو انسان دوستی ، امن ، بھائی چارہ اور محبت عام کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اس ادارے کے تحت اب تک تین درجن سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں اور انہی موضوعات پر مزید اشاعت کا سلسلہ جاری ہے۔

Share:

What a joy it is to introduce

You May Also Like

Categories